دنیا بھر میں خواتین کی اوسط عمر مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی ایک اہم وجہ صرف حیاتیاتی فرق نہیں بلکہ مردوں کے طرزِ زندگی، معاشرتی رویوں، معاشی مشکلات اور صحت کے مسائل کو نظرانداز کرنے کی عادت بھی ہے۔
طبی اور آبادیاتی تحقیقات کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں مرد خواتین کے مقابلے میں کم عمر پاتے ہیں۔ برطانیہ میں 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق مردوں کی اوسط عمر 79.1 سال جبکہ خواتین کی 83 سال تھی۔
طبی جریدے ’’دی لینسیٹ‘‘ میں اکتوبر 2025 میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق میں 204 ممالک اور علاقوں کے 1950 سے 2023 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر مردوں اور خواتین کی اوسط عمر کا فرق وقت کے ساتھ بڑھا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فرق کی وجوہات میں جینیاتی نظام، مدافعتی صلاحیت، معاشرتی رویے اور طرزِ زندگی شامل ہیں۔
خواتین میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم ہوتا ہے۔ خواتین کا دوسرا ایکس کروموسوم بعض موروثی بیماریوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح مدافعتی نظام کے فرق کے باعث مرد بعض انفیکشنز کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
تاہم محققین کے مطابق مردوں کی کم اوسط عمر کی وضاحت صرف جینیاتی عوامل سے نہیں کی جا سکتی۔
بیماریوں کو نظرانداز کرنا بھی ایک بڑی وجہ
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے مرد صحت کے مسائل سامنے آنے کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔ بعض افراد بیماری کی علامات چھپاتے ہیں یا اپنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے جھجکتے ہیں۔
پروسٹیٹ کینسر، پیشاب اور جنسی صحت سے متعلق مسائل پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ تشخیص اور علاج میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔
غربت اور مالی دباؤ کے اثرات
معاشی مشکلات، بے روزگاری اور غربت بھی مردوں کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ معاشرے میں مردوں سے اکثر خاندان کی مالی ذمہ داریاں اٹھانے اور اپنے مسائل خود حل کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔
جب کوئی شخص بے روزگاری یا مالی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو یہ توقعات اس کے ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔
سگریٹ نوشی اور دیگر نقصان دہ عادات
تحقیق میں سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور منشیات کے استعمال کو بھی مردوں کی کم عمر کی اہم وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔ بعض معاشروں میں یہ عادات مردوں کی سماجی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں، جس سے صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے آن لائن ایسے گروپس کے اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جو مردانگی کو طاقت، غلبے اور ہر مسئلے کا تنہا مقابلہ کرنے سے جوڑتے ہیں۔ ان حلقوں میں بعض اوقات نوجوانوں کو صحت مند سماجی تعلقات سے دور کرنے والے خیالات بھی فروغ پاتے ہیں۔
سماجی تنہائی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے
تحقیق میں سماجی تنہائی کو مردوں کی قبل از وقت موت کے اہم عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔ خاندان اور دوستوں سے رابطہ کم ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور دیگر صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
برطانیہ میں 2025 کی ایک تحقیق میں تین لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق سماجی طور پر تنہا مردوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ تھا، جبکہ تنہائی کا شکار خواتین میں یہ شرح 25 فیصد رہی۔
محققین کا کہنا ہے کہ مردوں کو اپنی صحت پر توجہ دینی چاہیے، باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا چاہیے، ورزش اور متوازن خوراک اپنانی چاہیے اور اپنے مسائل خاندان اور دوستوں سے شیئر کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
تحقیق کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مردوں کی اوسط عمر بڑھانے کے لیے صرف طبی سہولتیں کافی نہیں، بلکہ طرزِ زندگی، معاشرتی رویوں اور صحت سے متعلق روایتی تصورات میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔





