اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ پر آٹھ افسران کو معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ پمز ملک کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے۔
کارروائی کا سامنا کرنے والوں میں اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی شامل ہیں، یعنی ادارے کا سب سے اعلیٰ منتظم بھی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا ہے۔
واقعے کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے رپورٹ دی کہ آگ لگنے کی اصل وجہ حتمی طور پر متعین نہیں کی جا سکی۔ یعنی احتساب کی کارروائی آگے بڑھنے کے باوجود یہ بنیادی سوال جواب طلب ہے کہ آگ شروع کیسے ہوئی۔
تادیبی احکامات کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے اُس نرس کے لیے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا جو ہنگامی صورتحال میں ایک بچے کو متاثرہ حصے سے نکال کر لائی۔
یہ تفصیلات ڈان نے 29 اگست 2026 کو رپورٹ کیں۔ دی فرنٹیئر وائس نے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی؛ مزید معلومات ملنے پر رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔


