وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.676 ٹریلین روپے، یعنی 1676 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کر دیا ہے۔ اس ہدف کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اوسطاً 80 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائد کرنے کو بجٹ مفروضے کا حصہ بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں پیٹرولیم لیوی کے ہدف اور حالیہ تبدیلیوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی

حکومت نے مالی سال کے آغاز کے بعد جولائی اور اگست کے دوران پیٹرولیم لیوی میں متعدد مرتبہ تبدیلیاں کیں۔

یکم جولائی کو پیٹرول پر لیوی 66.64 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 79.54 روپے فی لیٹر تھی۔ 2 جولائی کو پیٹرولیم لیوی کم کرکے بالترتیب 64.14 روپے اور 77.04 روپے کردی گئی۔

4 جولائی کو پیٹرول پر لیوی دوبارہ بڑھا کر 70.36 روپے جبکہ ڈیزل پر 70.82 روپے فی لیٹر کردی گئی۔

پیٹرول پر لیوی 11 جولائی کو حکومت کے بجٹ میں مقرر کردہ 80 روپے فی لیٹر کے ہدف تک پہنچ گئی، جبکہ ڈیزل پر لیوی میں اضافہ مرحلہ وار جاری رہا۔

14 اگست کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 78.28 روپے فی لیٹر ہوگئی اور 20 اگست تک حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر لیوی 80 روپے فی لیٹر کردی۔

یوں یکم جولائی سے 20 اگست کے دوران پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 13.36 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

1676 ارب روپے کا ہدف کیوں رکھا گیا؟

حکومت کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا ہدف وفاقی بجٹ کا حصہ ہے اور اس کا تعلق حکومت کی مجموعی مالیاتی ضروریات اور عالمی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں سے بھی ہے۔

پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے نان ٹیکس ریونیو کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر لیوی میں تبدیلی براہِ راست حکومت کی آمدنی کو متاثر کرتی ہے۔

حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران صارفین کو ریلیف دینے کے لیے لیوی میں کمی بھی کی تھی، تاہم مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے اسے مرحلہ وار دوبارہ بڑھایا گیا۔

کیا پیٹرولیم لیوی کم ہوسکتی ہے؟

وزیر توانائی کے مطابق صارفین کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا فیصلہ حکومت کی مالی گنجائش، آمدنی کی ضروریات، عالمی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں سمیت مختلف عوامل پر منحصر ہوگا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں اور مالی حالات اجازت دیں تو اس کا فائدہ مقامی صارفین تک منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم آئندہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا انحصار صرف عالمی تیل کی قیمتوں پر نہیں ہوگا بلکہ پیٹرولیم لیوی، شرحِ مبادلہ، دیگر ٹیکسز اور حکومت کی مالی پوزیشن بھی اہم کردار ادا کریں گے۔