اسلام آباد: پاکستان کے لیے بحری تجارت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لائیڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی نے پاکستان کو عالمی وار رسک شپنگ لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کو اب بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے ہائی رسک میری ٹائم زون تصور نہیں کیا جائے گا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی حکومت پاکستان کی مشترکہ کوششوں اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی مؤثر سفارتی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان پر عالمی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس فیصلے سے جہاز رانی کی لاگت میں کمی آئے گی، پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں مزید مسابقتی بنیں گی اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

جوائنٹ وار کمیٹی دنیا بھر میں ایسے سمندری علاقوں کی نشاندہی کرتی ہے جہاں سیکیورٹی خدشات کے باعث جہازوں پر اضافی وار رسک انشورنس پریمیم عائد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا نام اس فہرست سے نکلنے کے بعد ان اضافی اخراجات میں کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

حکومت کے مطابق اس فیصلے سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ عالمی شپنگ لائنز کے لیے مزید پرکشش بنیں گے، جبکہ پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس، ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ حب بننے کے ہدف کو بھی تقویت ملے گی۔