عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوگیا، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر نئے حملوں، آبنائے ہرمز میں بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے اور سعودی مشرقی-مغربی آئل پائپ لائن کی بندش نے عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 2.93 ڈالر یا 2.8 فیصد اضافے کے بعد 107.54 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 2.88 ڈالر اضافے کے ساتھ 102.93 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
سعودی عرب کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر بند کردی گئی ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گریز کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی بندش سے عالمی تیل کی تقریباً 4 فیصد سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب میں توانائی اور شہری تنصیبات پر مزید حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے بھی سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بھی ایک تجارتی جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو جہاز خالی کرنا پڑا۔ ایرانی حکام کے مطابق ایرانی ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور عملے کے چار افراد زخمی ہوئے۔
ادھر یمن کے حوثیوں کی جانب سے باب المندب کے قریب اسٹریٹجک جزیرے پر کنٹرول مضبوط کرنے کی اطلاعات نے بھی تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ہوا تھا اور قیمت جولائی کے بعد پہلی مرتبہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر گئی تھی۔






