اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ورکرز ترسیلاتِ زر کی تازہ تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق اگست میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکا سے پاکستانیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 2.50 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اگست کے دوران سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے 87.35 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے، جو ان چار بڑے ممالک میں سب سے زیادہ رقم ہے۔
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں نے 74.98 کروڑ ڈالر جبکہ برطانیہ سے 56.37 کروڑ ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں۔
امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے اگست میں 30.89 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف ان چار ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے ایک اہم زرمبادلہ ذریعہ ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم مجموعی طور پر اس حجم کا بڑا حصہ بنتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران دبئی سے آنے والی ورکرز ترسیلات گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ رہیں۔
مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں پاکستان کی مجموعی ورکرز ترسیلاتِ زر میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے لیے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔






