ایران نے رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران تیل کی فروخت سے تقریباً 7.5 ارب ڈالر کی زرِمبادلہ آمدنی حاصل کی ہے، جس سے عالمی پابندیوں اور مسلسل معاشی دباؤ کے باوجود ایرانی حکومت کے مالی معاملات کو نمایاں سہارا ملا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کو جنوری سے اپریل 2026 کے دوران تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ رہی۔

ایرانی وزارتِ تیل کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت کی زرِمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ مالی وسائل حکومت کی زرِمبادلہ کی ضروریات کو دسمبر کے اواخر تک پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔

ایران کو امریکا کی پابندیوں اور عالمی مالیاتی نظام تک محدود رسائی کے باعث معاشی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تیل کی برآمدات اب بھی ملکی آمدنی اور زرِمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی آمدنی میں اضافے سے تہران کو بیرونی ادائیگیوں کے انتظام، سرکاری اخراجات پورے کرنے اور پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مزید گنجائش مل سکتی ہے۔

ایران کی معیشت میں توانائی کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت کے لیے نہ صرف مالی وسائل کا ذریعہ ہے بلکہ عالمی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔