پاکستان کے وفاقی حکومت کے براہِ راست قرضوں کا حجم جون 2026 تک بڑھ کر 83.6 کھرب روپے ہو گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اختتام پر 77.8 کھرب روپے تھا۔ اس طرح صرف ایک سال میں وفاقی قرض میں تقریباً 5.8 کھرب روپے یعنی 7.3 فیصد اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈیٹ بلیٹن کے مطابق جون 2022 کے مقابلے میں وفاقی حکومت کے براہِ راست قرض میں 35.8 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 75 فیصد بنتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 سے جون 2026 کے دوران حکومت کا ملکی قرض 54.5 کھرب سے بڑھ کر 59.5 کھرب روپے ہو گیا، یعنی ایک سال میں 5 کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں بیرونی قرض بھی 23.4 کھرب سے بڑھ کر 24.2 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے موجودہ اعداد و شمار میں آئی ایم ایف اور بعض دوطرفہ قرض دہندگان سے حاصل کیے گئے وہ قرض شامل نہیں جو مرکزی بینک کی بیلنس شیٹ پر ظاہر ہوتے ہیں۔ پاکستان کے مجموعی عوامی قرض کی مکمل تصویر اسٹیٹ بینک کے آئندہ اعداد و شمار کے بعد سامنے آئے گی۔
گزشتہ چار برس میں حکومت کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کی لاگت بھی بڑھتی رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ ہو رہا ہے، جس سے ترقیاتی اور پیداواری شعبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو رہی ہے۔






