ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ ملک میں پٹرول کی قیمت کہاں جا کر رکے گی اور کیا یہ 500 روپے فی لیٹر کی سطح تک پہنچ سکتی ہے؟
ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی ایک بڑی وجہ درآمدی انحصار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب بھی سالانہ 14 سے 18 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ ماضی میں طویل المدتی منصوبہ بندی پر توجہ نہیں دی گئی۔ اگر ملک میں ریفائنریز اور مقامی توانائی کے ذرائع پر مناسب کام کیا جاتا تو ایران اور روس سے نسبتاً سستا خام تیل درآمد کرکے ملک میں ریفائن کیا جا سکتا تھا۔
پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے سوال پر ماہر معاشیات نے موجودہ ٹیکسوں اور لیوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 114 روپے ٹیکس عائد ہے، جس میں 85 روپے پٹرولیم لیوی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس وصولی میں مشکلات کا حل لیوی کی صورت میں نکالنے کے بجائے طویل المدتی معاشی اور توانائی پالیسی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہے، تاہم کاربن لیوی کے تحت بھی اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر خاقان نجیب نے خبردار کیا کہ اگر حکومت شارٹ ٹرم اقدامات کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی، توانائی میں خود انحصاری اور مقامی ریفائننگ صلاحیت بڑھانے پر توجہ نہیں دیتی تو مستقبل میں بھی پٹرولیم قیمتوں کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔






