سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں صنعتی پلاٹس کی سیل ڈیڈز مکمل نہ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون میں زیرِ سماعت آڈٹ رپورٹ کے مطابق سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں مجموعی طور پر 339 صنعتکاروں کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف 214 صنعتکاروں نے اپنی سیل ڈیڈز مکمل کیں۔

رپورٹ کے مطابق 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود سیل ڈیڈز مکمل نہیں کیں، جس کے باعث ان کے صنعتی پلاٹس سے متعلق واجب الادا ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی وصولی متاثر ہوئی۔

آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیل ڈیڈز مکمل نہ کرنے والے 125 صنعتی پلاٹس کا مجموعی رقبہ 213 ایکڑ سے زائد ہے، جبکہ ان پلاٹس کے لیے ڈی سی ریٹ 5 لاکھ روپے فی مرلہ مقرر تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ انتظامیہ نے صنعتکاروں کو سیل ڈیڈز مکمل کرنے کے لیے مؤثر طور پر پابند نہیں کیا، جس کے نتیجے میں سرکاری واجبات کی وصولی میں تاخیر ہوئی۔

دوسری جانب ایس ڈی اے سی نے سیل ڈیڈز کی تکمیل کا معاملہ عدالتی فیصلے تک مؤخر کر دیا ہے۔ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے موجودہ ڈی سی ریٹ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ ڈی سی ریٹ، پی آئی ای ڈی ایم سی کی قابلِ اطلاق فروخت قیمت سے زیادہ ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ سیل ڈیڈز کی تکمیل اور سرکاری واجبات کی وصولی کے لیے معاملہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔