اسلام آباد: سعودی عرب نے پاکستان کو بڑا مالی ریلیف دیتے ہوئے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی واپسی مزید تین سال کے لیے مؤخر کر دی ہے، جس سے پاکستان پر بیرونی قرضوں کی فوری ادائیگی کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب نے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو 2028 تک رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات میں نمایاں کمی آئے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب کے 8 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں، جن میں سے 3 ارب ڈالر کا رول اوور رواں سال اپریل میں کیا جا چکا تھا، جبکہ اب مزید 5 ارب ڈالر کی مدت بھی بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں، جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً 500 ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔

جمیل احمد کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کر چکا ہے، جبکہ آئندہ ماہ چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ بھی متوقع ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید سہارا ملنے کی امید ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک نے انٹربینک مارکیٹ سے مجموعی طور پر 28 ارب ڈالر خریدے، جن میں گزشتہ مالی سال کے دوران خریدے گئے تقریباً 9 ارب ڈالر بھی شامل ہیں، تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا سکے۔