کراچی: سندھ کابینہ نے کراچی کے نوجوان میر رضا علی خان کے قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کابینہ کے اجلاس میں رپورٹ پیش کی گئی، جسے آج محکمۂ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ سات مختلف لفافوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ ترجمان کے مطابق رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے، جس میں ضیاء لنجار، ناصر شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ رپورٹ کی ایک نقل متاثرہ خاندان کو بھی فراہم کی جائے، تاکہ اہلِ خانہ اس معاملے میں سامنے آنے والی تفصیلات سے آگاہ ہو سکیں۔
میر رضا قتل کیس کا پس منظر
کراچی کے نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوئے تھے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے، تاہم واپس نہ پہنچ سکے۔ دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی۔
پولیس حکام کے مطابق لاش پر تشدد کے آثار تھے اور سینے پر گولی کا زخم بھی موجود تھا۔ خبر کے مطابق لاش ملنے سے ایک روز قبل ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
مقتول کے والد کے مطابق میر رضا کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے حوالے سے خوش تھے۔
اب سندھ کابینہ کے فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کا انتظار ہے۔ رپورٹ میں کیا حقائق سامنے آتے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں، یہ آئندہ پیش رفت میں اہم ہوگا۔