بنگلا دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ انہیں گرفتاری، تشدد یا قتل جیسے سنگین خطرات کا علم ہے، لیکن اپنے حامیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کی سیاسی ذمہ داری ہے اور وہ دسمبر میں وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ نے واشنگٹن میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش واپسی کا فیصلہ وہ خطرات کے باوجود تبدیل نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت انہیں گرفتار کرے، تشدد کا نشانہ بنائے یا ان کی جان لے، تب بھی وہ وطن واپسی کے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ خوف زدہ نہیں ہیں اور انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ واپسی کا راستہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے بنگلا دیش واپسی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔
یاد رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024ء میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ خبر کے مطابق انہوں نے ایک بار پھر دسمبر میں وطن واپس آنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ان کے اس اعلان کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ کیا شیخ حسینہ واقعی دسمبر میں بنگلا دیش واپس آئیں گی، اور اگر ایسا ہوا تو ان کی سیاسی واپسی ملک کی موجودہ صورتِ حال پر کیا اثرات مرتب کرے گی؟





