اہلِ خانہ نے فارنزک اور ڈی این اے رپورٹس مبینہ طور پر مینج کیے جانے کا الزام عائد کردیا، پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ
حنا جاوید قتل کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جہاں مقتولہ کے اہلِ خانہ نے مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کا مبینہ آڈیو پیغام میڈیا کو جاری کردیا ہے۔ اہلِ خانہ نے فارنزک شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان رپورٹس کو مبینہ طور پر مینج کیا گیا۔
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ آڈیو پیغام قتل کے دوسرے روز موصول ہوا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق، کامل اصغر نے 21 اگست کو ان سے رابطہ کرکے ڈی این اے رپورٹس کی تفصیلات بتائیں اور خاموش رہنے کا کہا تھا۔
خاندان کا مزید دعویٰ ہے کہ آڈیو پیغام میں حنا جاوید کے قتل کا معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھانے پر بھی اعتراض کیا گیا تھا۔
قتل کے اگلے روز ڈی این اے رپورٹس کی تفصیلات کیسے معلوم ہوئیں؟
مقتولہ کے اہلِ خانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ جب حنا جاوید کو 20 اگست کو قتل کیا گیا تو مرکزی ملزم کے بھائی کو اگلے ہی روز ڈی این اے رپورٹس اور فارنزک شواہد کی تفصیلات کیسے معلوم ہوگئیں؟
خاندان کے مطابق، آڈیو پیغام میں 19 فارنزک شواہد کا ذکر کیا گیا، جن میں سے 15 مقامات پر ملازم ذیشان کی نشاندہی کی بات کی گئی تھی۔ تاہم، یہ تفصیلات فی الحال اہلِ خانہ کے دعوؤں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔
اہلِ خانہ کا پولیس تفتیش پر عدم اعتماد
متاثرہ خاندان کے مطابق، حالیہ پریس کانفرنس کے بعد ڈی آئی جی شعیب خرم نے ان سے رابطہ کرکے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تاہم اہلِ خانہ نے ملاقات سے انکار کردیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی تفتیش پر اعتماد نہیں رہا اور وہ اس کیس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، ڈی آئی جی شعیب خرم نے سوشل میڈیا پر کیس سے متعلق سرگرمیاں کم کرنے کی درخواست بھی کی، جس کے جواب میں خاندان نے انہیں اپنے وکیل سے رابطہ کرنے کا کہا۔
جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کیوں؟
حنا جاوید کے اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ کیس کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ فارنزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور تحقیقات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جواب مل سکے۔
تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں پولیس یا مرکزی ملزم کے خاندان کی جانب سے ان تازہ الزامات پر کوئی تفصیلی جواب شامل نہیں۔ کیس میں سامنے آنے والے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنا اہم ہوگا۔





