اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور کروڑوں لوگوں کے لیے وہ زبان ہے جس میں خبر پڑھی جاتی ہے، کاروبار کی بات ہوتی ہے اور شاعری یاد رکھی جاتی ہے۔ یہ اکثر پاکستانیوں کی مادری زبان نہیں، پھر بھی یہی وہ زبان ہے جو انہیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، بازار ہو یا ریلوے اسٹیشن، اردو وہ مشترکہ پل ہے جس پر مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔

یہ زبان صدیوں کے دوران جنوبی ایشیا کے قصبوں اور چھاؤنیوں میں پروان چڑھی، جہاں مقامی بولیاں بولنے والے لوگ اُن سپاہیوں، تاجروں اور منتظمین کے ساتھ رہتے تھے جو فارسی اور ترکی زبانیں بولتے تھے۔ اِسی میل جول سے ایک ایسی زبان وجود میں آئی جس کا قواعدی ڈھانچہ مقامی ہے مگر جس کے ذخیرۂ الفاظ میں دوسری زبانوں سے آئے ہوئے لفظوں کی بھرمار ہے۔

یہ لین دین کبھی رکا نہیں۔ فارسی اور عربی نے اردو کو اس کا زیادہ تر ادبی اور رسمی اسلوب دیا؛ ترکی نے اپنے نقوش چھوڑے؛ اور انگریزی نوآبادیاتی دور سے لے کر آج تک مسلسل نئے الفاظ فراہم کر رہی ہے۔ روزمرہ کا ایک سادہ سا جملہ بھی چار پانچ زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے اور سننے والے کو اُن میں سے کوئی لفظ اجنبی محسوس نہیں ہوتا۔

اردو فارسی عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور خاص طور پر نستعلیق میں، جو ایک ڈھلوان اور بہتا ہوا خط ہے جس میں حروف ایک دوسرے کے اوپر سے سرکتے ہوئے نیچے کی طرف آتے ہیں۔ نستعلیق جتنا خوبصورت ہے اُتنا ہی مشکل بھی ہے: اس میں ہر حرف کی شکل اپنے ساتھ والے حروف کے مطابق بدلتی ہے، اور لفظ محض ہجے نہیں کیا جاتا بلکہ گویا تعمیر کیا جاتا ہے۔

اردو کی ادبی روایت میں شاعری کا پلڑا غیرمعمولی طور پر بھاری ہے۔ میر اور غالب، اقبال اور فیض صرف نصاب کی کتابوں تک محدود نہیں؛ اُن کے اشعار سیاسی تقریروں میں، شادی بیاہ کی محفلوں میں اور اخباری سرخیوں میں سنائی دیتے ہیں، اور وہ لوگ بھی انہیں دہراتے ہیں جنہوں نے کبھی کوئی دیوان کھول کر نہیں دیکھا۔

نثر کا آغاز بعد میں ہوا مگر اس نے تیزی سے فروغ پایا۔ بیسویں صدی میں اردو اخبارات، ناولوں اور ریڈیو نے ایک مشترکہ عوامی زبان تشکیل دی، اور آج بھی اردو صحافت اُن قارئین اور سامعین تک پہنچتی ہے جہاں انگریزی ذرائع ابلاغ کی رسائی نہیں۔

تعلیم کے میدان میں تصویر زیادہ پیچیدہ ہے۔ اسکول کی سطح پر بیشتر تدریس اردو میں ہوتی ہے جبکہ اعلیٰ تعلیم کا بڑا حصہ انگریزی میں ہے، اور طالب علموں کو انہی برسوں میں ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے جب تجریدی تصورات کو سمجھنا سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

اس سب کا مطلب یہ نہیں کہ اردو پاکستان کی علاقائی زبانوں کی حریف ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی کی اپنی مالا مال ادبی روایات ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی ہے؛ زیادہ تر پاکستانی بیک وقت ایک سے زیادہ زبانوں میں جیتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ایک سے دوسری زبان میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

ڈیجیٹل انقلاب کے ابتدائی برس اردو کے لیے آسان نہیں تھے۔ ابتدائی کمپیوٹر ایسی دنیا کے لیے بنائے گئے تھے جو بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے اور جس کے حروف سادہ اور الگ الگ ہوتے ہیں۔ برسوں تک انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کا مطلب یا تو تصویر کی شکل میں متن لگانا تھا یا رومن حروف میں اردو لکھنا۔

یونیکوڈ نے اردو کے ہر حرف کو ایک مستقل شناخت دے کر یہ صورتحال بدل دی، اور جدید فونٹ ٹیکنالوجی نے یہ ممکن بنایا کہ نستعلیق کو اسکرین پر اُس کے اصل حسن کے ساتھ دکھایا جا سکے، نہ کہ مجبوراً نسخ کے زیادہ چوکور انداز پر اکتفا کیا جائے۔

لکھنے کے ذرائع نے قدرے سست رفتاری سے قدم ملایا۔ صوتی کی بورڈ، جن کی مدد سے کوئی شخص جانے پہچانے انگریزی حروف دبا کر اردو لکھ سکتا ہے، اُنہوں نے اردو کو عام موبائل فونوں تک پہنچانے میں کسی بھی سرکاری معیار سے زیادہ کام کیا۔

حالیہ برسوں میں مشینی ترجمے اور صوتی شناخت میں نمایاں بہتری آئی ہے، اگرچہ دونوں اب بھی انہی مقامات پر ٹھوکر کھاتے ہیں جو اردو کو اردو بناتے ہیں: محاورہ، شاعرانہ اسلوب، اور وہ جملے جن کا سارا مفہوم کسی ایک فارسی ترکیب پر گھومتا ہے۔

انٹرنیٹ پر اردو اب کوئی حاشیائی زبان نہیں رہی۔ خبر رساں ویب سائٹس، ویڈیو چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بڑے پیمانے پر اردو مواد پیش کر رہے ہیں، اور پاکستان کی سیاسی بحث کا بڑا حصہ اب کاغذ کے بجائے اسکرین پر اردو ہی میں ہوتا ہے۔

کھلا سوال اصطلاحات کا ہے۔ ہر وہ شعبہ جو تیزی سے پھیل رہا ہے — کمپیوٹر، طب، مالیات — اِتنی رفتار سے نئے الفاظ پیدا کرتا ہے کہ کوئی بھی لسانی ادارہ اُن کا ترجمہ نہیں کر پاتا، اور اردو عموماً انتظار کرنے کے بجائے انگریزی اصطلاح کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔

پاکستان سے باہر یہ زبان اُن گھروں میں زندہ ہے جہاں بچے گھر کے اندر اردو اور باہر ہر جگہ انگریزی بولتے ہیں۔ زبانوں کا زوال عموماً یہیں سے شروع ہوتا ہے، اور یہیں سب ٹائٹل، گانے اور پیغام رسانی کی ایپس خاموشی سے وہ کام کرتی ہیں جو اسکول نہیں کر پاتے۔

اِن میں سے کوئی بات یہ ظاہر نہیں کرتی کہ یہ زبان زوال پذیر ہے۔ یہ سب اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اردو ایک طویل سفر کے بیچ میں ہے — چھاپہ خانے سے اسکرین تک، خطاطی سے کوڈ تک — اور اس سفر میں وہ اپنی صدیوں کی تاریخ ساتھ لیے چل رہی ہے اور حیرت انگیز طور پر بہت کم پیچھے چھوڑ رہی ہے۔