لاہور — بھارتی حراست میں قید پچیس پاکستانی شہری جمعہ کو واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچ گئے۔ ان میں سے کئی اپنی اصل سزا کی مدت سے کہیں زیادہ عرصہ قید رہے۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی نے بتایا کہ واپس آنے والے افراد کراچی اور ٹھٹھہ کے ماہی گیر ہیں — یہی دو اضلاع سندھ کے ساحل پر ماہی گیری کی افرادی قوت کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔
بحیرہ عرب میں کام کرنے والے ماہی گیر اکثر اُس وقت گرفتار ہو جاتے ہیں جب ان کی کشتیاں سمندری حد پار کر جاتی ہیں — یہ حد نہ تو نشان زد ہے اور نہ چھوٹی کشتی سے آسانی سے پہچانی جا سکتی ہے۔ دونوں طرف گرفتاریاں کئی دہائیوں سے جاری ہیں اور رہائی عموماً گروپوں کی صورت میں طے پاتی ہے۔
یہ تفصیلات ڈان نے 29 اگست 2026 کو رپورٹ کیں۔ دی فرنٹیئر وائس نے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی؛ مزید معلومات ملنے پر رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔


