ہیٹ اسٹروک محض گرمی میں طبیعت خراب ہو جانے کا نام نہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں جسم کا نظامِ حرارت مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے: پسینہ اتنی تیزی سے حرارت خارج نہیں کر پاتا، جسم کا اندرونی درجۂ حرارت بڑھتا چلا جاتا ہے اور اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے اور چند گھنٹوں میں پیدا ہو سکتی ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ اُن لوگوں کو ہوتا ہے جو گرمی سے بچ ہی نہیں سکتے: دوپہر بھر کام کرنے والے مزدور اور ریڑھی بان، ٹریفک پولیس، تنہا رہنے والے بزرگ، چھوٹے بچے، اور دل، گردے یا سانس کے امراض میں مبتلا افراد۔ بعض ادویات بھی جسم کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم کر دیتی ہیں۔

ہیٹ اسٹروک سے پہلے ہیٹ ایگزاشن یعنی گرمی کی تھکن آتی ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مدد سب سے آسان ہے۔ اس کی علامات میں شدید پسینہ، ٹھنڈی اور چپچپی جلد، کمزوری، چکر، سر درد، متلی اور پٹھوں میں کھنچاؤ شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مریض ہوش میں ہوتا ہے اور عام طور پر بات کر سکتا ہے۔

سب سے اہم فرق ذہنی حالت کا ہے۔ اگر کوئی شخص اُلجھن کا شکار ہو جائے، الفاظ صاف ادا نہ کر سکے، عجیب رویہ اختیار کرے، بےہوش ہو جائے یا اُسے دورہ پڑ جائے تو یہ تھکن نہیں بلکہ ہیٹ اسٹروک ہے۔ ایسے میں جلد اکثر گرم اور خشک ہوتی ہے کیونکہ پسینہ رُک چکا ہوتا ہے — مگر جلد گیلی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے صرف پسینے کی موجودگی دیکھ کر ہیٹ اسٹروک کو خارج نہ کریں۔

پہلے دس منٹ میں ٹھنڈا کرنا ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔ مریض کو سائے یا کمرے میں منتقل کریں، اضافی کپڑے اتاریں اور تیزی سے ٹھنڈا کریں: جلد پر پانی ڈالیں یا چھڑکیں، مسلسل ہوا دیں، اور گردن، بغلوں اور رانوں کے جوڑ پر ٹھنڈی پٹیاں رکھیں جہاں بڑی خون کی نالیاں سطح کے قریب ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی طبی مدد کے لیے رابطہ کریں، بعد میں نہیں۔

دو غلطیاں عام ہیں اور دونوں خطرناک ہیں۔ بےہوش یا اُلجھے ہوئے شخص کو پانی پلانے کی کوشش نہ کریں — مائع پھیپھڑوں میں جا سکتا ہے۔ اور ٹھنڈا کرنا شروع کرنے سے پہلے برف یا اسپتال ڈھونڈنے میں وقت ضائع نہ کریں؛ فوراً استعمال کیا گیا عام نلکے کا پانی اور ہوا، دیر سے ملنے والے بہترین سامان سے زیادہ فائدہ دیتے ہیں۔

احتیاط پر تقریباً کچھ خرچ نہیں آتا۔ پیاس لگنے کا انتظار کیے بغیر پانی پیتے رہیں، جہاں ممکن ہو بھاری بیرونی کام دوپہر کے اوقات سے ہٹا دیں، کمروں میں ہوا کا گزر رکھیں، اور گرمی کی لہر کے دوران اکیلے رہنے والے بزرگ ہمسایوں کی خبر لیتے رہیں۔ یہ عمومی رہنمائی ہے اور طبی علاج کا متبادل نہیں: ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع لازمی ہے۔