اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کے افسران اور ملازمین کے لیے ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ مہم کا افتتاح کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنا ٹیسٹ کروایا اور وزارت کے تمام ملازمین کے لیے اسکریننگ لازمی قرار دینے کا اعلان کردیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام کے تحت حکومت پاکستان ملک بھر میں 12 سال اور اس سے زائد عمر کے ہر فرد کی اسکریننگ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر سے لے کر اعلیٰ افسران اور معاون عملے تک وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ لازمی ہوگی۔
وفاقی وزیر کے مطابق وزارت کے تمام منسلک محکموں اور اداروں جبکہ دیگر وفاقی وزارتوں کو بھی خطوط جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے ملازمین کی اسکریننگ بھی یقینی بنائی جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد سے اس مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور اس وقت وفاقی دارالحکومت میں 17 سرکاری اسکریننگ مراکز فعال ہیں۔ حکومت نجی اسپتالوں کو بھی اس پروگرام میں شامل کر رہی ہے اور انہیں اسکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے موجودہ انسانی وسائل سے زیادہ سے زیادہ افراد تک مفت اسکریننگ کی سہولت پہنچائی جاسکے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اسکریننگ کے لیے کٹس اور ضروری سامان کا انتظام کرلیا گیا ہے اور وہاں جلد سرگرمیوں کا آغاز ہوگا، جبکہ صوبے بھی مرحلہ وار قومی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کی اسکریننگ بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور دیگر اہم داخلی و خارجی مقامات پر بھی کی جا رہی ہے۔ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران اس پروگرام کو مزید علاقوں اور آبادیوں تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے مردم شماری کے لیے استعمال کیے گئے ڈیجیٹل ٹولز سے استفادہ کیا جا رہا ہے جبکہ اسکریننگ کا ریکارڈ حقیقی وقت میں ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا۔ یہ ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں بھی افراد کی اسکریننگ کی معلومات دستیاب رہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کے ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہونے کا اندازہ ہے، تاہم ملک گیر اسکریننگ مکمل ہونے کے بعد بیماری کے اصل پھیلاؤ کا زیادہ واضح اندازہ ہوسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک خاموش بیماری ہے جو اکثر اس وقت سامنے آتی ہے جب جگر کو شدید نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ سنگین جگر کے امراض اور بالآخر جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تاہم بروقت تشخیص کی صورت میں اس کا مکمل اور مؤثر علاج ممکن ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت ہیپاٹائٹس سی کا علاج مکمل طور پر مفت فراہم کر رہی ہے۔ مریض کو تقریباً 34 ہزار روپے مالیت کی تین ماہ کی ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ طبی ضرورت کے مطابق دوسرے کورس کی صورت میں ایک مریض کو تقریباً 68 ہزار روپے تک کی ادویات مفت فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اسکریننگ بھی مفت کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ انہوں نے بھی آج خود ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کروائی اور الحمدللہ ان کا ٹیسٹ منفی آیا۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا شناختی کارڈ لے کر قریبی اسکریننگ مرکز جائیں اور چند منٹ میں مفت ٹیسٹ کروائیں۔
انہوں نے والدین سے خصوصی اپیل کی کہ وہ 12 سال یا اس سے زائد عمر کے اپنے بچوں سمیت خاندان کے دیگر افراد کی بھی اسکریننگ کروائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے اسکریننگ اور علاج کی سہولت مفت فراہم کردی ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں تاکہ پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی سے پاک کرنے کی قومی کوشش کو کامیاب بنایا جاسکے۔






