خوبصورتی کے لیے آئی لیش ایکسٹینشنز کا استعمال کرنے والی خواتین کے لیے ماہرین نے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ باقاعدگی سے یہ بیوٹی ٹریٹمنٹ کروانے والی خواتین میں ڈیموڈیکس (Demodex) نامی خوردبینی مائٹس پائے گئے۔

ڈیموڈیکس مائٹس عموماً پلکوں کی جڑوں کے قریب رہ سکتے ہیں اور مصنوعی پلکیں لگانے کے لیے استعمال ہونے والے گلو میں جمع ہونے والے مردہ جلدی خلیات ان کے لیے خوراک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ آئی لیش ایکسٹینشنز ان مائٹس کو پھنسنے کا موقع بھی فراہم کرسکتی ہیں، جس سے ان کی تعداد بڑھنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

تحقیق میں 16 سے 28 سال کی عمر کی 345 خواتین کا سروے کیا گیا۔ تقریباً نصف خواتین نے بتایا کہ وہ ہر تین سے چار ہفتے بعد آئی لیش ایکسٹینشنز کرواتی ہیں، یعنی سال میں تقریباً 17 مرتبہ۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 48 فیصد خواتین نے آئی لیش ایکسٹینشنز کے بعد آنکھوں میں کسی نہ کسی قسم کی تکلیف، سرخی یا خارش کی شکایت کی۔ ماہرینِ امراض چشم کا کہنا ہے کہ مسلسل یا غیر محتاط استعمال سے آنکھوں میں خارش، خشکی اور بعض صورتوں میں دھندلا نظر آنے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

تحقیق یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے کی، جس کے نتائج یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹو سرجنز کی 44ویں کانگریس میں پیش کیے گئے۔