شہر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں انفلوئنزا کے کیسز میں 20 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جبکہ کورونا کے کیسز بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرِ امراضِ تنفس ڈاکٹر جاوید خان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران کراچی میں انفلوئنزا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی اسپتالوں میں عام طور پر انفلوئنزا کی ویکسین دستیاب ہوتی ہے، تاہم رواں سال تاحال ویکسین دستیاب نہیں ہوسکی، جس کے باعث ہر سال ویکسین لگوانے والے افراد انتظار کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید خان نے بتایا کہ کراچی میں کورونا کے کیسز بھی مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں اور ہر ہفتے تقریباً 3 سے 4 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ کورونا کیسز زیادہ تر ہلکی نوعیت کے ہیں اور بعض مریض ہلکے نمونیا کی علامات کے ساتھ اسپتال پہنچ رہے ہیں۔
ماہرِ امراضِ تنفس کے مطابق کورونا کے بیشتر مریض 2 سے 3 روز میں صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو انفلوئنزا اور کورونا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بخار، کھانسی یا نزلہ زکام کی علامات ظاہر ہونے پر دوسروں سے فاصلہ رکھا جائے اور ماسک استعمال کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہری اپنے ہاتھ صابن سے باقاعدگی سے دھوئیں، غیر ضروری طور پر آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں، جبکہ بیمار افراد کو ہجوم اور غیر ضروری اجتماعات میں جانے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔






