دودھ روزمرہ استعمال ہونے والی اہم غذاؤں میں شامل ہے، تاہم دودھ میں ملاوٹ کی خبریں سامنے آنے کے باعث صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اسی حوالے سے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کی جانب سے دودھ میں ڈٹرجنٹ یا سرف کی ممکنہ ملاوٹ جانچنے کے لیے ایک سادہ گھریلو طریقہ بتایا گیا ہے۔
ادارے کے مطابق اس ابتدائی ٹیسٹ کے لیے کسی خاص مشین یا لیبارٹری کی ضرورت نہیں۔ تقریباً 5 سے 10 ملی لیٹر دودھ ایک چھوٹے گلاس میں لے کر اسے اچھی طرح ہلایا جائے۔
اگر دودھ کو ہلانے کے بعد معمولی جھاگ بنے اور وہ جلد ختم ہوجائے تو اسے عام طور پر قدرتی دودھ کی خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اگر غیر معمولی مقدار میں جھاگ بنے اور دیر تک برقرار رہے تو یہ ممکنہ طور پر ڈٹرجنٹ یا کسی دوسرے فوم بنانے والے مادے کی ملاوٹ کی جانب اشارہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈٹرجنٹ دودھ میں جھاگ کو زیادہ دیر برقرار رکھنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے پتلا یا پانی ملا دودھ بظاہر گاڑھا محسوس ہوسکتا ہے۔
دودھ خریدتے وقت صارفین کو معروف اور قابلِ اعتماد برانڈز کا انتخاب کرنے، پیکنگ، مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری تاریخ چیک کرنے اور متعلقہ سرکاری تصدیقی نشانات دیکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
تاہم یہ گھریلو طریقہ صرف ابتدائی اندازہ فراہم کرسکتا ہے۔ دودھ میں ملاوٹ کی حتمی تصدیق کے لیے مستند فوڈ سیفٹی ادارے یا لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانا زیادہ مناسب ہے۔ ملاوٹ کا شبہ ہونے کی صورت میں مشکوک دودھ کے استعمال سے گریز کرنا بہتر ہے۔






