دوپہر کو کچھ دیر سونا اکثر افراد کے لیے تھکن دور کرنے اور تازگی حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن بعض لوگوں کو جاگنے کے بعد سر درد، سستی، جسم میں بھاری پن اور ذہنی دھند کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دوپہر کی نیند کے بعد سر درد ہمیشہ کسی بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ زیادہ دیر تک سونا، پانی کی کمی، غلط انداز میں سونا، کھانے کے فوراً بعد لیٹنا اور دن میں بہت دیر سے سونا اس کی عام وجوہات میں شامل ہوسکتی ہیں۔

اگر دوپہر کی نیند 30 سے 40 منٹ سے زیادہ طویل ہوجائے تو بعض افراد گہری نیند کے مرحلے میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس دوران اچانک جاگنے سے سستی، ذہنی دھند اور سر درد محسوس ہوسکتا ہے۔

جسم میں پانی کی کمی بھی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔ اگر دن بھر پانی کم پیا گیا ہو تو نیند سے بیدار ہونے کے بعد سر درد یا جسم میں بھاری پن زیادہ محسوس ہوسکتا ہے۔

اسی طرح اونچا یا بہت نیچا تکیہ اور گردن کی غلط پوزیشن بھی پٹھوں میں کھچاؤ پیدا کرکے سر درد کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ دوپہر کی نیند کو 15 سے 20 منٹ تک محدود رکھا جائے اور اسے بہت دیر سے لینے سے گریز کیا جائے۔ مناسب مقدار میں پانی پینا اور سوتے وقت گردن و سر کی درست پوزیشن برقرار رکھنا بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر نیند کے بعد سر درد بار بار یا انتہائی شدید ہو، یا اس کے ساتھ چکر، الٹی، نظر میں تبدیلی یا جسم کے کسی حصے میں کمزوری جیسی علامات ہوں تو طبی معائنہ ضروری ہے۔