ایک حالیہ ابتدائی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ روزانہ کھانے پینے کا دورانیہ محدود رکھنے سے زیادہ عمر کی خواتین میں یادداشت اور بعض ذہنی صلاحیتوں میں معمولی بہتری آ سکتی ہے۔
امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کی سالانہ کانفرنس Nutrition 2026 میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق روزانہ کھانے کا دورانیہ تقریباً 8 سے 9 گھنٹے تک محدود رکھنے کا تعلق بڑی عمر کی خواتین میں یادداشت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت میں بہتری سے دیکھا گیا۔
چھ ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں 50 سے 79 سال کی عمر کی 47 خواتین شامل تھیں۔ تمام خواتین کا وزن زیادہ تھا یا وہ موٹاپے کا شکار تھیں اور انہیں روزانہ تقریباً 500 کیلوریز کم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی۔
شرکاء کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ نے روزانہ اوسطاً 8.2 گھنٹے کے دوران کھانا کھایا، جبکہ دوسرے گروپ نے تقریباً 12.3 گھنٹے کے دوران اپنی خوراک استعمال کی۔
چھ ماہ بعد دونوں گروپوں کی خواتین کا وزن تقریباً 15 پاؤنڈ کم ہوا، تاہم محدود وقت میں کھانا کھانے والی خواتین نے بعض ذہنی صلاحیتوں کے ٹیسٹ میں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ ان میں مقامی منصوبہ بندی، مسائل حل کرنے اور یادداشت کے ٹیسٹ شامل تھے۔
تاہم ردِعمل کی رفتار اور بیک وقت متعدد کام انجام دینے کی صلاحیت میں دونوں گروپوں کے درمیان نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق کھانے کے اوقات کا تعلق جسم کے میٹابولزم اور دماغی صحت سے ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھانے کے درمیان وقفہ انسولین کی حساسیت، سوزش اور جسم کے خلیوں کی مرمت جیسے عوامل پر اثر انداز ہوسکتا ہے، جو ممکنہ طور پر دماغی صحت کے لیے مفید ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے تاہم واضح کیا کہ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے اور بڑے پیمانے پر مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقت کی پابندی سے کھانا دماغی صحت کے لیے واحد حل نہیں، بلکہ ورزش، مناسب نیند، بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھنا اور متوازن غذا بھی اہم ہیں۔






