اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے زچہ و بچہ کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کے سامان کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک ملکی آبادی تقریباً 40 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد صرف بچوں کی تعداد محدود کرنا نہیں بلکہ ہر بچے کو صحت مند، محفوظ اور باوقار زندگی فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کی منصوبہ بندی کرتے وقت والدین کو یہ ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ آیا ان کے پاس اپنے بچوں کو مناسب خوراک، معیاری تعلیم، بروقت حفاظتی ٹیکے، علاج معالجے کی سہولت اور بہترین تربیت فراہم کرنے کے لیے درکار وسائل موجود ہیں یا نہیں۔ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب ہر بچے کو اس کے بنیادی حقوق میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مانع حمل طریقوں کا استعمال دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہے، جبکہ سعودی عرب، ایران اور ترکی جیسے ممالک میں ان طریقوں کا استعمال نسبتاً زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے محفوظ اور مؤثر طریقوں کے کم استعمال کے باعث غیر ارادی حمل میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل جیسے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں، جو خواتین کی صحت کے ساتھ ساتھ قومی صحت کے نظام پر بھی اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند خاندان اور مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ماں کی صحت متاثر ہو تو بچوں کی بہتر نشوونما، تعلیم و تربیت اور خاندان کی مجموعی فلاح بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح والد کی ذمہ داری خاندان کی معاشی ضروریات پوری کرنا ہے، اسی طرح ماں کی صحت کا تحفظ بھی خاندان کی خوشحالی اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے نیشنل کونسل تشکیل دی ہے، جو آبادی میں متوازن اضافے، زچہ و بچہ کی صحت کے فروغ اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق قومی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وزارتِ قومی صحت، صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے زچہ و بچہ کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو مزید مؤثر، قابلِ رسائی اور معیاری بنایا جائے گا۔ آخر میں ڈاکٹر مختار بھرتھ نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کو ذمہ داری، شعور اور آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے تناظر میں اپنائیں، تاکہ ہر بچہ صحت مند ماحول میں پروان چڑھے، ہر ماں محفوظ رہے اور پاکستان ایک مضبوط، صحت مند اور خوشحال معاشرہ بن سکے۔
ترجمان وزارت صحت نے کہا ہے چین کی حکومت نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کے تعاون سے، وزارتِ قومی صحت حکومتِ پاکستان کے حوالے 20 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کی تولیدی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ادویات، طبی سامان اور آلات فراہم کیے۔ اس امداد کی حوالگی کی تقریب بنیادی مرکزِ صحت (BHU) ترلائی، اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں اس اقدام کو پاکستان میں تولیدی صحت کی خدمات کے فروغ، زچہ و بچہ کی صحت میں بہتری اور خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک عوام کی رسائی کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔






