روزمرہ کھانوں میں ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والی ادرک بظاہر ایک عام سی جڑ ہے، لیکن اس میں موجود قدرتی مرکبات کے باعث اسے صحت کے حوالے سے اہم غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مختلف سائنسی مطالعات میں ادرک کے ممکنہ فوائد ہاضمے، سوزش، کولیسٹرول اور خون میں شکر کی سطح کے حوالے سے زیرِ تحقیق رہے ہیں۔
ادرک میں جنجرول (Gingerol) سمیت کئی بایو ایکٹو مرکبات پائے جاتے ہیں جن میں اینٹی سوزش اور اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ادرک کا استعمال جسم میں سوزش کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
ادرک صدیوں سے متلی اور ہاضمے کے مسائل کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ مطالعات میں بھی ادرک کو متلی، پیٹ کے درد اور پیٹ پھولنے جیسی بعض شکایات میں ممکنہ طور پر مفید قرار دیا گیا ہے۔
کچھ تحقیقات میں ادرک کے استعمال اور ایل ڈی ایل یعنی خراب کولیسٹرول میں کمی کے درمیان تعلق بھی دیکھا گیا ہے، جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے حوالے سے ہونے والی بعض تحقیقات میں خون میں شکر کی سطح اور انسولین کی حساسیت پر ممکنہ مثبت اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ادرک میں موجود مرکبات کی ممکنہ اینٹی کینسر خصوصیات پر بھی تحقیق جاری ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس حوالے سے موجود شواہد ابھی حتمی نہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق ادرک کو متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، لیکن اسے کسی بیماری کے علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ خاص طور پر کسی بیماری یا مخصوص ادویات کے استعمال کی صورت میں باقاعدہ استعمال سے پہلے طبی ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔






