وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال کے افسوسناک واقعے پر قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیر صحت ہونے کی حیثیت سے خود کو اس معاملے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اسی لیے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کے لیے اپنی کمیٹی تشکیل دے، تاہم معاملے کو صرف کمیٹیوں اور مقررہ تاریخوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے عملی تجاویز دی جائیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام مثالی نہیں اور اس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ملک میں روزانہ بڑی تعداد میں بچے جان کی بازی ہار رہے ہیں، جن میں سے کئی اموات قابلِ روک تھام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پمز واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور کسی بھی ذمہ دار کو نہیں بخشا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن بھی اس کا جائزہ لے اور جہاں کوئی کمی یا خامی ہو، اس کی نشاندہی کرے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز سانحے کو صرف ایک واقعہ سمجھنے کے بجائے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور بچوں کی جانیں بچانے کے لیے اصلاحات کی بنیاد بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق صرف عہدے دار تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ پورے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ جلد متوقع ہے اور تمام متعلقہ افسران کے خلاف تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں کارروائی کی جائے گی۔