کبھی ایسا ہوا ہے کہ پیٹ بھرا ہونے کے باوجود پسندیدہ کھانا دیکھتے ہی منہ میں پانی بھرنے لگے؟ یہ صرف بھوک کی علامت نہیں بلکہ دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے درمیان ایک دلچسپ رابطے کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جب انسان کسی پسندیدہ کھانے کو دیکھتا، اس کی خوشبو محسوس کرتا یا اس کے بارے میں سوچتا ہے تو دماغ کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ کھانا ملنے والا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کھانا کھانے سے پہلے ہی ہاضمے کی تیاری شروع کردیتا ہے۔ اس عمل کو سیفالک فیز آف ڈائجیشن کہا جاتا ہے۔
اسی دوران منہ میں لعاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو کھانے کو نرم کرنے، چبانے اور نگلنے میں مدد دیتا ہے۔ یوں گرم گرم بریانی، پیزا، جلیبی یا کسی بھی پسندیدہ ڈش کو دیکھ کر منہ میں پانی آنا جسم کا ایک قدرتی ردعمل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کے لیے ہمیشہ شدید بھوک ضروری نہیں۔ کھانے کی خوشبو، شکل، ذائقہ سے جڑی یادیں اور ماضی کے تجربات بھی دماغ کو متحرک کرسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بچپن کے کسی پسندیدہ کھانے کی خوشبو کئی سال بعد بھی کھانے کی خواہش پیدا کرسکتی ہے۔
اس کے برعکس کسی خراب بو، ناپسندیدہ منظر یا کھانے سے جڑی بری یاد پر دماغ متلی، بھوک ختم ہونے یا گھن جیسے ردعمل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کھانے سے ماضی میں طبیعت خراب ہونے کی صورت میں بعد میں اسی کھانے کی خوشبو بھی ناگوار محسوس ہوسکتی ہے۔
یعنی ہماری بھوک صرف خالی معدے کا نام نہیں بلکہ دماغ، حواس، یادوں اور جسم کے درمیان ایک پیچیدہ رابطے کا نتیجہ ہے۔ اگلی بار پسندیدہ کھانا دیکھتے ہی منہ میں پانی آئے تو سمجھ لیں کہ دماغ نے کھانا کھانے سے پہلے ہی جسم کو اس کے لیے تیار کرنا شروع کردیا ہے۔






