وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ضوابط و رابطہ مصطفیٰ کمال نے ترکیہ کے اعلیٰ سطح کے تکنیکی وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صحت کے شعبے میں تکنیکی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک وفد کے دورے کا مقصد پاکستان کے صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے، بالخصوص ویکسین کی مقامی تیاری، ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجی، ریگولیٹری نظام اور استعدادِ کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔

وفد پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کی صلاحیتوں اور امکانات کا جائزہ لے گا اور صحت کے شعبے میں دستیاب تجربے، مہارت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی استعداد کو مزید بہتر بنانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کرے گا۔

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات دیرینہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صحت کے شعبے میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان صحت کے نظام میں خود انحصاری اور پائیداری کے لیے وسیع اقدامات کر رہی ہے اور ملک میں مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ کی صلاحیت قائم کرنے کی جانب مؤثر پیش رفت جاری ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق پاکستان نے پہلی مرتبہ نیشنل ویکسین پالیسی تشکیل دی ہے، جس کا مقصد ویکسین سیکیورٹی کو مضبوط بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان قومی حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کے تحت شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کرتی ہے، تاہم ان میں سے کوئی بھی ویکسین اس وقت ملک میں تیار نہیں ہوتی اور تمام ویکسین بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان یہ ویکسین عالمی اداروں کے تعاون سے درآمد کرتا ہے، جس کے اخراجات کا 51 فیصد حکومت پاکستان جبکہ 49 فیصد بین الاقوامی شراکت دار برداشت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی معاونت 2030 یا 2031 تک مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد مقامی ویکسین کی تیاری ناگزیر ہو جائے گی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عالمی معاونت ختم ہونے کے بعد پاکستان کو اپنی ویکسین کی ضروریات کی مکمل لاگت خود برداشت کرنا ہوگی، جس کا تخمینہ تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر سالانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں مقامی ویکسین مینوفیکچرنگ اب صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ قومی ترجیح بن چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان نے انڈونیشیا کی ایک بائیوفارماسیوٹیکل کمپنی کے ساتھ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے معاہدے بھی کیے ہیں، جسے ویکسین کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔

ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کا 90 فیصد نظام ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے، جس سے ریگولیٹری عمل کی کارکردگی اور شفافیت میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ DRAP کو اپریل 2027 تک WHO Maturity Level 3 حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ملاقات میں پاکستان میں جامع یونیورسل میڈیکل ریکارڈ سسٹم کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ملک بھر کے شہریوں کا کوئی یکساں طبی ریکارڈ موجود نہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ایک نیا نظام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہی میڈیکل ریکارڈ نمبر کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس سے ایک متحد اور قابلِ رسائی طبی ریکارڈ سسٹم قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

ملاقات میں دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کی مہارت، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، تاکہ پاکستان میں زیادہ مضبوط، پائیدار اور خود انحصار صحت کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔