پاکستانی اداکار علی انصاری نے اسکرین پر رومانوی مناظر کی عکس بندی سے متعلق اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مکالمے غیر فطری ہوں یا کہانی کے مطابق نہ لگیں تو ایسے مناظر ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں گفتگو کرتے ہوئے علی انصاری نے کہا کہ اگر کسی رومانوی منظر کی تحریر مضبوط ہو اور مکالمے فطری انداز میں لکھے گئے ہوں تو انہیں اپنے ساتھی فنکاروں کے ساتھ ایسے مناظر ادا کرنے میں کسی قسم کی جھجک یا مشکل محسوس نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی منظر کے ڈائیلاگز غیر ضروری یا غیر حقیقی محسوس ہوں۔ ان کے مطابق ایسے مواقع پر اداکار کے لیے منظر کو قدرتی انداز میں پیش کرنا آسان نہیں رہتا۔

علی انصاری نے کہا کہ بعض اوقات صرف اسکرپٹ پڑھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کوئی مخصوص مکالمہ یا منظر کہانی کے لیے اتنا ضروری نہیں جتنا اسے بنایا گیا ہے۔

اداکار نے کہا کہ وہ لکھاریوں کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ کہانی کے بہاؤ کو سامنے رکھتے ہوئے مناظر تحریر کرتے ہیں، تاہم شوٹنگ کے دوران کبھی کبھار محسوس ہوتا ہے کہ بعض مکالمے یا مناظر ضرورت سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی صورت میں ہدایت کار اور ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد مکالموں میں معمولی رد و بدل یا ضروری تبدیلی کر لی جاتی ہے، جس سے منظر زیادہ فطری، مؤثر اور حقیقت کے قریب محسوس ہوتا ہے۔