پاکستانی میزبان اور اداکارہ نادیہ خان نے اپنے شوبز کیریئر کے ابتدائی دنوں اور اداکاری میں قدم رکھنے کے حوالے سے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔
حال ہی میں پی ٹی وی کے پروگرام ’’اسٹار اینڈ اسٹائل‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نادیہ خان نے بتایا کہ معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین نے انہیں اس وقت اداکاری کے لیے منتخب کیا جب وہ خود کو خوبصورت نہیں سمجھتی تھیں۔
نادیہ خان کے مطابق کالج کے زمانے میں ان کی ہم جماعتیں بھی انہیں ہیروئن کے کردار کے لیے موزوں نہیں سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ساتھی طالبات کے خیال میں وہ نہ تو بہت گوری تھیں اور نہ ہی نازک و حسین دکھائی دیتی تھیں۔
تاہم ان تمام باتوں کے باوجود نادیہ خان نے اداکاری میں قدم رکھا اور کامیاب ہوئیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق ان کا اداکاری کا آغاز 1996 میں حسینہ معین کے تحریر کردہ ڈرامے ’’پل دو پل‘‘ سے ہوا، جس میں ان کے ساتھ عدنان صدیقی بھی شامل تھے۔
نادیہ خان نے بتایا کہ جب انہوں نے عدنان صدیقی کے ساتھ پہلی مرتبہ اداکاری کی تو وہ حقیقتاً بہت کم عمر تھیں۔ ان کا پہلا شوٹ شہر سے باہر تھا اور گھر سے دور ہونے کی وجہ سے انہیں شدید گھبراہٹ اور ہوم سِک ہونے کا احساس ہوا، یہاں تک کہ وہ رونے لگیں۔
انہوں نے دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پروڈیوسر نے انہیں خاموش کرانے کے لیے وعدہ کیا کہ اگر وہ رونا بند کردیں تو ہر 30 منٹ بعد انہیں آئس کریم دی جائے گی، جس کے بعد جوس بھی دیا جائے گا۔
نادیہ خان کے مطابق عدنان صدیقی نے بھی ان کی کم عمری پر حیرت کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ بہت چھوٹی ہیں اور ہیروئن جیسا رویہ بھی نہیں رکھتیں۔
دستیاب سوانحی معلومات میں نادیہ خان کی پیدائش 22 مئی 1979 بتائی جاتی ہے۔ اگر 1996 کو ان کے اداکاری کے آغاز کا سال مانا جائے تو اس وقت ان کی عمر تقریباً 16 سے 17 سال تھی۔






