اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 29 جولائی سے 5 اگست 2026 تک ملک بھر میں مون سون کے نئے سلسلے کے پیشِ نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں وقفے وقفے سے بارشوں جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ متوقع بارشوں کے باعث بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ، پہاڑی برساتی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال اور مختلف شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور پنجاب کے متعدد اضلاع میں دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلابی ریلے آ سکتے ہیں، جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے کئی بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کے جمع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب، جہلم، راوی، کابل، سوات، پنجکوڑہ اور دیگر معاون دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ بھارتی آبی ذخائر سے ممکنہ پانی کے اخراج کی صورت میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

ادارے نے متعلقہ وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، ہنگامی ٹیموں کی تیاری، ممکنہ بند شاہراہوں کی فوری بحالی اور ریسکیو انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

این ڈی ایم اے نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، سیلابی پانی اور برساتی نالوں کو عبور نہ کرنے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے محتاط رہنے اور سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کرنے کی تلقین کی ہے۔

اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی تازہ صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ" ایپ استعمال کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں۔