تحریر: افضل شاہ یوسفزئی
جولائی کی ایک شام اسلام آباد کی سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں۔ فیصل ایونیو سے لے کر اسلام آباد ایکسپریس وے تک کئی مقامات پر پانی جمع تھا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کر رہی تھیں اور شہری ایک دوسرے سے یہی پوچھ رہے تھے:
"کیا اس بار مون سون معمول سے زیادہ طاقتور ہے؟"
لیکن اگر یہی سوال موسمیاتی اعداد و شمار سے پوچھا جائے تو جواب حیران کن ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم مئی سے 27 جولائی 2026 تک اسلام آباد میں ہونے والی بارش گزشتہ تین دہائیوں (1991 تا 2020) کے اوسط سے 41 فیصد کم رہی۔ یعنی جن دنوں شہر نے موسلا دھار بارش دیکھی، وہ پورے موسم کی اصل تصویر نہیں تھے۔
یہ صرف بارش کی کمی کی کہانی نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے موسم، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی کے اس نئے دور کی داستان ہے، جہاں موسم پہلے جیسا محسوس تو ضرور ہوتا ہے، مگر ویسا رہا نہیں۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ویدر والے کی جانب سے اسلام آباد کے تین خودکار موسمی اسٹیشنوں کے ڈیٹا پر مبنی تجزیے کے مطابق، اس سال 88 روز کے دوران شہر میں اوسطاً 238.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اسی مدت کا موسمی معمول 405.5 ملی میٹر ہے۔ یوں شہر میں تقریباً 167 ملی میٹر بارش کم ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مئی، جون اور جولائی تینوں مہینوں میں بارش معمول سے کم رہی۔
مئی: 68 فیصد کم
جون: 17 فیصد کم
جولائی (27 جولائی تک): 44 فیصد کم
یہ اعداد و شمار اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ چند موسلا دھار بارشیں پورے مون سون کی نمائندگی کرتی ہیں۔
بارش کا پیٹرن کیسے بدل رہا ہے؟
موسمیات کے ماہرین کے مطابق اب بارش کا انداز تبدیل ہو رہا ہے۔ پہلے بارش کئی دنوں تک وقفے وقفے سے ہوتی تھی، لیکن اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک یا دو گھنٹوں میں اتنی بارش برس جاتی ہے جتنی پہلے کئی دنوں میں ہوتی تھی۔
اسلام آباد کی یہ رپورٹ بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں ہونے والی تقریباً 80 فیصد بارش صرف پانچ دنوں میں ہوئی، جبکہ باقی 22 دن نسبتاً خشک گزرے۔
اسی لیے شہریوں کو چند شدید بارشیں پورے موسم پر غالب محسوس ہوتی ہیں، حالانکہ مجموعی بارش معمول سے کم رہتی ہے۔
ایک ہی شہر، تین مختلف موسم
اگر آپ نسٹ یونیورسٹی کے قریب رہتے ہیں تو ممکن ہے آپ نے اس مون سون کو نسبتاً خشک محسوس کیا ہو، لیکن اگر آپ بحریہ انکلیو میں تھے تو آپ کا تجربہ بالکل مختلف ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں:
بحریہ انکلیو: 253.2 ملی میٹر بارش
جی-8/2: 139.8 ملی میٹر بارش
نسٹ یونیورسٹی: صرف 90.2 ملی میٹر بارش
یہ فرق اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جدید شہروں میں بارش یکساں نہیں برستی۔ چند کلومیٹر کا فاصلہ بھی موسمی صورتحال کو نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔
پانی بہت گرا، پھر بھی بارش کم کیسے رہی؟
یہ سوال عام شہری کے ذہن میں آنا فطری ہے۔
اس کی ایک سادہ مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے۔
فرض کریں کسی طالب علم نے پورے سال پڑھائی نہ کی ہو، لیکن امتحان سے ایک رات پہلے مسلسل بارہ گھنٹے پڑھ لے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے پورے سال باقاعدگی سے تعلیم حاصل کی۔
بارش کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
اگر پورے موسم میں صرف چند دن بہت زیادہ بارش ہو اور باقی دن خشک رہیں تو مجموعی بارش پھر بھی معمول سے کم رہ سکتی ہے۔
کیا یہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے؟
سائنس دان گزشتہ کئی برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بارش کا نظام بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
اب بارش کی مجموعی مقدار سے زیادہ اس کی شدت اہم بنتی جا رہی ہے۔
اسی لیے دنیا کے کئی شہروں میں ایک ہی دن میں ریکارڈ بارش بھی ہوتی ہے اور پورا موسم مجموعی طور پر خشک بھی رہتا ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے لے کر حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں اور بے ترتیب بارشوں تک، موسمی پیٹرن میں تبدیلی اب ایک حقیقت بنتی جا رہی ہے۔
اسلام آباد کی یہ رپورٹ بھی اسی بڑے رجحان کا ایک مقامی عکس پیش کرتی ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک انتباہ
بارش کی مقدار کم ہونا ہمیشہ اچھی خبر نہیں ہوتی۔
اگر بارش چند گھنٹوں میں انتہائی شدت سے ہو تو نکاسیٔ آب کا نظام ناکام ہو سکتا ہے، سڑکیں زیرِ آب آ سکتی ہیں اور شہری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، لمبے خشک وقفے زیرِ زمین پانی کی سطح، باغات، جنگلات اور آبی ذخائر پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی صرف "کتنی بارش ہوئی" کی بنیاد پر نہیں، بلکہ "بارش کیسے ہوئی" کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگی۔
اسلام آباد جیسے تیزی سے پھیلتے شہر کو مزید خودکار موسمی اسٹیشن، بہتر بارش مانیٹرنگ، جدید نکاسیٔ آب کے نظام اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں کی ضرورت ہے۔
کیونکہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارش کا یہی پیٹرن برقرار رہا تو مستقبل میں شہری سیلاب اور پانی کی قلت ایک ساتھ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
اسلام آباد کا مون سون 2026: ایک خاموش انتباہ
بارشیں ہوئیں، لیکن ضرورت کے مطابق نہیں۔
چند دنوں کی موسلا دھار بارش نے موسم کو "زیادہ بارش والا" ضرور محسوس کرایا، مگر مجموعی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر اب بھی معمول سے بہت کم بارش حاصل کر سکا۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ:
"اس سال کتنی بارش ہوئی؟"
بلکہ یہ ہے:
"کیا ہم بدلتے ہوئے موسم کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنے شہروں کو تیار کرنے کے لیے تیار ہیں؟"





