بلوچستان کے اہم صنعتی شہر حب میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث تقریباً 300 صنعتی یونٹس کی بندش اور ہزاروں کارکنوں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پانی کی عدم فراہمی سے تقریباً 10 لاکھ افراد، 25 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی اور سالانہ 7 ارب روپے سے زائد کے حکومتی ریونیو کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

حب چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اسماعیل ستار اور صدر یعقوب کریم نے وزیراعظم شہباز شریف سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور حب کو ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

اسماعیل ستار کے مطابق حب ڈیم تقریباً بھر چکا ہے، اس کے باوجود علاقے کے عوام، کسانوں اور صنعتوں کو ان کے حصے کا پانی دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے باعث صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ کئی یونٹس اپنی مکمل پیداواری صلاحیت پر کام نہیں کر پا رہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے صنعتوں کو طلب کے مطابق پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث بعض صنعتی اداروں نے پیداوار محدود کردی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں مزید صنعتیں بند ہوسکتی ہیں، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا۔

حب کے پانی کی تقسیم کے موجودہ فارمولے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اسماعیل ستار کے مطابق اس وقت حب کو تقریباً 36.7 فیصد جبکہ کراچی کو 62.3 فیصد پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تقسیم کئی دہائیاں قبل طے کی گئی تھی، جب حب کی آبادی، صنعتی یونٹس اور زرعی رقبہ موجودہ حجم سے کہیں کم تھا۔

ان کے مطابق 1980 کی دہائی میں حب کی آبادی تقریباً 20 ہزار، صنعتی یونٹس صرف 5 اور زیرِ کاشت رقبہ تقریباً ایک ہزار ایکڑ تھا، جبکہ آج آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، صنعتی یونٹس کی تعداد تقریباً 300 اور زرعی رقبہ 25 ہزار ایکڑ سے زیادہ ہوچکا ہے۔

صنعتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حب بلوچستان کا ایک بڑا صنعتی مرکز ہے جہاں سے حکومت کو سالانہ 7 ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ صنعتوں کی بندش سے نہ صرف روزگار متاثر ہوگا بلکہ قومی خزانے، برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

اسماعیل ستار نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ حب کو فوری طور پر اضافی پانی فراہم کیا جائے، جبکہ پانی کی تقسیم کے پرانے فارمولے پر نظرثانی کرکے موجودہ آبادی، زرعی ضروریات اور صنعتی سرگرمیوں کے مطابق نیا نظام تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو حب کو صنعتی بحران کے ساتھ ساتھ بے روزگاری، زرعی نقصان اور پینے کے پانی کے سنگین بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔