اسلام آباد:- (افضل شاہ یوسفزئی) سینیٹ کی موسمیاتی تبدیلی کمیٹی نے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (پی سی سی اے) کی تشکیل میں تاخیر اور اس کے مجوزہ ڈھانچے پر سوالات اٹھاتے ہوئے آئندہ اجلاس میں جامع بریفنگ طلب کرلی۔ سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر شہزیب درانی نے سوال کیا کہ اگر پی سی سی اے اہم ادارہ ہے تو اب تک مکمل کیوں نہیں کیا گیا، اور اگر اہم نہیں تو اس کے قیام کا مقصد کیا ہے۔ سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے پی سی سی اے کے صوبائی رکن کے طور پر فیصل امین گنڈاپور کا نام شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا اور ادارے میں نوجوان اور باصلاحیت افراد کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیئرپرسن شیری رحمان نے کہا کہ انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ پی سی سی اے میں زیادہ تر ریٹائرڈ افراد شامل ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے پاس پہلے سے ایک تحقیقی ادارہ موجود ہے تو پی سی سی اے اس سے مختلف کیا کام کرے گا انہوں نے نوجوانوں کی بھرتی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پی سی سی اے میں نوجوانوں کے لیے کوٹہ مختص کیا جانا چاہیے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ پالستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور گلیشیئر جھیلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں 2026 کے دوران گلیشیئر جھیل پھٹنے (GLOF) کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے رواں سال 27 جون، 11، 17 اور 26 جولائی کو GLOF سے متعلق چار ایڈوائزریز جاری کیں بریفنگ پر شیری رحمان نے کہا کہ کمیٹی کو یہ معلومات پہلے سے معلوم ہیں اور حکام آئندہ اجلاس میں مکمل اور جامع بریفنگ کے ساتھ آئیں۔