محکمۂ موسمیات نے اگست سے اکتوبر 2026 تک ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ درجۂ حرارت کی پیشگوئی کرتے ہوئے عوام، کسانوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ادارے کے مطابق اگست کے دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی بارشوں میں کمی متوقع ہے۔ تاہم گلگت بلتستان میں بارشیں معمول کے قریب رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں درجۂ حرارت معمول سے زیادہ رہ سکتا ہے، جس کے باعث خریف کی فصلوں پر منفی اثرات مرتب ہونے اور آبپاشی کی ضرورت میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پنجاب اور سندھ میں پانی کی قلت کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں، جو زرعی شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھلنے، گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب کے خطرات برقرار رہیں گے۔ اسی طرح بڑے شہروں میں شہری سیلاب اور جنوبی پنجاب و بلوچستان کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ موجود ہے۔
محکمۂ موسمیات نے مزید کہا کہ تیز ہوائیں، گرد آلود آندھیاں، گرج چمک اور ژالہ باری بعض علاقوں میں فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جبکہ نشیبی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔






