نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستانی شہریوں کے لیے QR کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے، جس کا اجرا 14 اگست 2026 سے مرحلہ وار شروع کر دیا گیا ہے۔
نادرا کے مطابق نئے کارڈ میں درآمدی مائیکرو چِپ کے بجائے محفوظ QR کوڈ استعمال کیا گیا ہے، جسے عام اسمارٹ فون اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے اسکین کرکے شناخت کی تصدیق کی جا سکے گی۔
محفوظ QR کوڈ میں متعلقہ شہری کی شناختی معلومات اور تصویر شامل ہوگی، جس سے شناختی معلومات کی تصدیق آسان بنانے اور ڈیٹا کے اندراج میں غلطیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
نئے کارڈ پر خاندانی نمبر کے ساتھ خصوصی علامات بھی درج ہوں گی، جن کے ذریعے معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضا عطیہ کرنے والوں اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کی شناخت کی جا سکے گی۔ کارڈ پر شہری کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔
نادرا کے مطابق پہلے مرحلے میں QR کوڈ پر مبنی پولی کاربونیٹ کارڈ موجودہ ٹیسلن سے بنے معیاری شناختی کارڈ کی جگہ لے گا۔ جنوری 2027 سے نائیکوپ اور بچوں کے کارڈز سمیت شناختی کارڈز کی دیگر اقسام کو بھی نئے نظام میں منتقل کیا جائے گا۔
آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) بھی نئے نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ شہریوں کو اپنے موجودہ شناختی کارڈ فوری طور پر تبدیل کرانے کی ضرورت نہیں۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ پہلے سے جاری تمام مائیکرو چِپ اور دیگر شناختی کارڈ اپنی مقررہ میعاد ختم ہونے تک قابل استعمال رہیں گے۔
نادرا کے مطابق موجودہ چِپ پر مبنی اسمارٹ قومی شناختی کارڈ تقریباً 14 سال قبل متعارف کرایا گیا تھا، تاہم چِپ ریڈرز اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی کے باعث اس کی چِپ سے منسلک سہولیات مکمل طور پر استعمال نہیں ہوسکیں۔
نئے QR کوڈ پر مبنی نظام کا مقصد شناخت کی محفوظ اور آسان ڈیجیٹل تصدیق کو فروغ دینا اور شناختی سہولیات کے لیے بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنا ہے۔






