مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس کے حوالے سے ایک حیران کن سائبر سکیورٹی واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک اے آئی ایجنٹ نے اوپن سورس سافٹ ویئر میں مبینہ طور پر نقصان دہ کوڈ شامل کرنے کی کوشش کی اور اسے منظور کروانے کے لیے جعلی آن لائن شناختوں کے ذریعے ایک حقیقی پروگرامر کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی۔
یہ واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس میں یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ ڈلاس کے کمپیوٹر سائنس کے طالب علم سنان جان دمیر کے سامنے آیا۔ وہ GitHub پر ایک اوپن سورس نیٹ ورکنگ منصوبے میں کام کر رہے تھے، جہاں انہیں ایک مشکوک سافٹ ویئر اپ ڈیٹ نظر آئی۔
دمیر کو شبہ ہوا کہ اس اپ ڈیٹ میں ایسا کوڈ موجود ہے جو سافٹ ویئر استعمال کرنے والوں کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے GitHub پر اس تبدیلی کے خلاف اعتراض اٹھایا۔
اے آئی نے انسان کو قائل کرنے کے لیے جعلی شناختیں بنائیں
واقعے کا سب سے حیران کن پہلو اس وقت سامنے آیا جب ایک صارف نے دمیر کے اعتراض کو غلط ثابت کرنے کی کوشش شروع کردی۔ بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ صرف ایک عام آن لائن صارف نہیں تھا بلکہ ایک خودکار اے آئی ایجنٹ کی جانب سے استعمال کی جانے والی جعلی شناخت تھی۔
ایجنٹ نے ایک سے زیادہ جعلی شخصیات استعمال کیں اور ان کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ مشکوک کوڈ محفوظ ہے۔ اس کا مقصد منصوبے کے منتظم کو نقصان دہ تبدیلی قبول کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔
برطانیہ کے AI Security Institute (AISI) کے مطابق یہ کارروائی ایک سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران سامنے آئی۔ ادارے نے بتایا کہ 28 جولائی کو اس کے سکیورٹی عملے نے اپنے تحقیقی نظام سے غیر معمولی ڈیٹا منتقلی محسوس کی، جس کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں۔
AISI کے مطابق مختلف ماڈلز پر کیے گئے 122 تجربات میں 10 مرتبہ اے آئی ایجنٹس نے لائیو انٹرنیٹ پر غیر مجاز کارروائیاں کیں۔ مجموعی طور پر 19 ایسی کارروائیاں ریکارڈ ہوئیں، جن میں زیادہ تر ایک ہی ماڈل سے متعلق تھیں۔
صرف ہیکنگ نہیں، سوشل انجینئرنگ بھی
AISI کی رپورٹ کے مطابق سب سے سنگین واقعے میں اے آئی ایجنٹ نے ایک اوپن سورس منصوبے میں نقصان دہ کوڈ داخل کرنے کی کوشش کی۔ جب ایک انسانی منتظم نے اس کوڈ پر اعتراض کیا تو ایجنٹ نے جعلی آن لائن شناختیں بنائیں اور انہیں استعمال کرتے ہوئے منتظم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ انسانی منتظم نے بالآخر مشکوک کوڈ مسترد کردیا۔
AISI کے مطابق ایجنٹ نے منصوبے کے انسانی منتظمین کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں، متعدد جعلی شناختیں بنائیں اور اعتراض سامنے آنے کے بعد اپنی سرگرمی کو بے ضرر دکھانے کی کوشش کی۔
GitHub نے بھی ان جعلی اکاؤنٹس کو اپنی دھوکہ دہی اور ہیکنگ سے متعلق پالیسیوں کے تحت معطل کردیا۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟
سائبر سکیورٹی ماہرین کے لیے تشویش کی اصل وجہ صرف نقصان دہ کوڈ داخل کرنے کی کوشش نہیں بلکہ انسانی رویے کو متاثر کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال ہے۔
ایسے حملے کو وسیع تر تناظر میں سوشل انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جہاں حملہ آور کسی تکنیکی خامی کے بجائے انسان کو دھوکا دے کر مطلوبہ کارروائی کروانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ معاملہ سپلائی چین اٹیک کے خطرے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی مقبول اوپن سورس منصوبے میں نقصان دہ کوڈ کامیابی سے شامل کردیا جائے تو بعد میں اس سافٹ ویئر پر انحصار کرنے والے متعدد صارفین اور ادارے متاثر ہوسکتے ہیں۔
AISI پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ جدید اے آئی ایجنٹس اب پیچیدہ، کئی مراحل پر مشتمل سائبر کارروائیاں خود انجام دینے کی صلاحیت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
حقیقی دنیا میں نقصان ہوا یا نہیں؟
AISI کے مطابق واقعے کے سب سے سنگین حصے کامیاب نہیں ہوئے اور تحقیقات میں کسی حقیقی دنیا کے نقصان کی نشاندہی نہیں ہوئی۔ تاہم ادارے نے اسے اہم سکیورٹی واقعہ قرار دیا کیونکہ اے آئی ایجنٹس نے پہلی مرتبہ حقیقی لوگوں اور اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے غیر مجاز اور دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمی دکھائی۔
برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے بھی کہا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جدید اے آئی کے استعمال کے ساتھ مضبوط حفاظتی نظام، حقیقی وقت کی نگرانی اور واضح حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔






