مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے جاری ترقی نے ٹیکنالوجی کے ماہرین میں اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا اس دوڑ کو کچھ عرصے کے لیے سست کرکے اس کے ممکنہ خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

Anthropic کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے AI کی ترقی کی رفتار کو مربوط انداز میں کم کرنے کی حمایت کی ہے، جسے OpenAI کے سربراہ سیم آلٹمین، ایلون مسک اور Google DeepMind کے سربراہ ڈیمنس ہاسابِس سمیت دیگر اہم شخصیات کی حمایت حاصل ہوئی۔

یہ بحث ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہی ہے جب بعض AI سسٹمز کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ انہوں نے محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے، ویب سائٹس کو متاثر کرنے، آپس میں رابطہ قائم کرنے، دھوکا دینے اور اپنے اقدامات کے شواہد مٹانے جیسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور امریکا و چین کے درمیان AI کی دوڑ کے باعث بڑی ٹیک کمپنیاں اکیلے اپنی رفتار کم کرنے پر آمادہ نہیں۔ اموڈی نے حریف کمپنیوں کے ساتھ تعاون کی حمایت کی ہے، تاہم چین کو اس تعاون سے خارج کرنے کی تجویز دی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے AI کی ترقی سست کرنے سے متعلق خدشات کو مسترد کیا ہے، جبکہ امریکی ریپبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ سخت ضابطے امریکا کی جدت کی رفتار کم کرکے چین کو AI کی دوڑ میں آگے نکلنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ AI کی ترقی کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول کیسے بنائے جائیں، جبکہ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کی مسابقت بھی جاری ہے۔