مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی نے جہاں دنیا میں نئی سہولیات پیدا کی ہیں، وہیں ماہرین نے اس کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اے آئی کمپنی Anthropic سے وابستہ محققین کے حوالے سے ایسے خدشات سامنے آئے ہیں کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض محققین کا خیال ہے کہ خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھنے والی سپر انٹیلی جنس اگر انسانی کنٹرول سے باہر ہوگئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ایک محقق نے اے آئی کمپنیوں کی جانب سے سپر انٹیلی جنس کی دوڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انسانی بقا کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایک اور محقق کے مطابق آنے والے برسوں میں اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا خطرہ موجود ہے، تاہم یہ ایک خدشہ اور پیش گوئی ہے، کوئی یقینی طور پر طے شدہ مستقبل نہیں۔ ماہرین کے درمیان اے آئی کے حقیقی خطرے کی شدت اور اس کے ممکنہ نتائج پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات میں سائبر حملے، اہم کمپیوٹر نظاموں پر اثراندازی اور بنیادی سہولیات میں خلل جیسے خدشات شامل ہیں۔ اسی لیے اے آئی کی ترقی کے ساتھ اس کی حفاظت، نگرانی اور انسانی کنٹرول کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔