مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کلاڈ کے سیکڑوں صارفین کی گفتگو کچھ عرصے کے لیے انٹرنیٹ پر عوامی طور پر دستیاب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث بعض صارفین کی ذاتی، پیشہ ورانہ اور حساس معلومات سرچ انجنز کے ذریعے دیکھی جا سکتی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ مسئلہ ان گفتگوؤں سے متعلق تھا جنہیں صارفین نے خود شیئر لنک کے ذریعے دوسروں کے ساتھ شیئر کیا تھا۔ بعد ازاں انہی لنکس کو گوگل سمیت دیگر سرچ انجنز نے انڈیکس کر لیا، جس کی وجہ سے مخصوص سرچ کے ذریعے یہ گفتگوئیں عوامی طور پر قابلِ رسائی بن گئیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ریڈٹ کے صارفین نے سرچ نتائج میں ایسی چیٹس کی نشاندہی کی۔ رپورٹس کے مطابق 200 سے زائد چیٹس کم از کم 25 صفحات پر مشتمل سرچ نتائج میں موجود تھیں، جن میں سے بعض حالیہ ہفتوں کی گفتگوئیں بھی شامل تھیں۔
سامنے آنے والی چیٹس میں مختلف نوعیت کا مواد موجود تھا۔ بعض صارفین نے ذاتی نوعیت کے سوالات کیے، کچھ نے ملازمت سے متعلق رہنمائی حاصل کی، جبکہ کئی افراد نے اپنے ریزیومے، رابطہ معلومات اور پیشہ ورانہ تفصیلات بھی چیٹ بوٹ کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ بعض گفتگوؤں میں کمپنیوں کے اندرونی منصوبوں، کلاؤڈ سیکیورٹی سے متعلق غیر شائع شدہ مواد، صحت کے شعبے کی معلومات اور دیگر حساس تحقیقی دستاویزات بھی شامل تھیں۔
کلاڈ تیار کرنے والی کمپنی اینتھروپک نے وضاحت کی کہ صارفین کے پاس اپنی گفتگو شیئر کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اختیار موجود ہوتا ہے، اور شیئر کیے گئے لنکس صرف اسی صورت میں عوامی بنتے ہیں جب صارف خود انہیں شیئر کرتا ہے۔ تاہم کمپنی نے تسلیم کیا کہ صارفین کو واضح طور پر یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ شیئر کیے گئے لنکس سرچ انجنز میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
بعد ازاں اینتھروپک نے ان چیٹ لنکس کو سرچ نتائج سے ہٹانے کے لیے ضروری تکنیکی اقدامات کیے، جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ سرچ انجن صرف انہی صفحات کو انڈیکس کرتا ہے جنہیں ویب سائٹ کے مالکان عوامی طور پر دستیاب رکھتے ہیں، اور ویب سائٹس کو اپنے صفحات سرچ نتائج سے خارج رکھنے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس استعمال کرتے وقت صارفین کو اپنی ذاتی، مالی، کاروباری یا خفیہ معلومات شیئر کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنی چاہیے، کیونکہ عوامی لنکس یا دیگر تکنیکی وجوہات کے باعث ایسی معلومات غیر ارادی طور پر منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔






