اسلام آباد، 14 اگست 2026: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے نیشنل سرٹ میں نیشنل سائبر سکیورٹی آپریشنز سینٹر کا افتتاح کردیا، جسے پاکستان کی سائبر لچک، اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ اور شہریوں کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے پاکستان کی قیادت اور قوم کو یوم آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی قومی آزادی اور خودمختاری کا ایک نیا پہلو ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل گورنمنٹ، ای گورننس اور شہریوں کے لیے آن لائن خدمات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اس لیے سائبر سکیورٹی کو ڈیجیٹل تبدیلی کے مرکز میں رکھنا ضروری ہے۔

نیشنل سائبر سکیورٹی آپریشنز سینٹر سائبر خطرات کی ریئل ٹائم نگرانی، نشاندہی اور فوری ردعمل کی صلاحیت فراہم کرے گا۔ وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے 79 سال مکمل ہونے پر ایسے مرکز کا افتتاح اہم ہے جو آزادی کے ڈیجیٹل پہلو کے تحفظ میں کردار ادا کرے گا۔

شزہ فاطمہ نے معرکہ حق کے دوران پاکستان کی سائبر دفاعی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے ماحول میں متعلقہ اداروں نے نقصان دہ سرگرمیوں کی نگرانی، اہم معلوماتی انفراسٹرکچر کے تحفظ اور ضروری ڈیجیٹل خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔

ڈی جی نیشنل سرٹ ڈاکٹر حیدر عباس نے اپنی پریزنٹیشن میں پاکستان کی سائبر سکیورٹی کے شعبے میں پیش رفت پر روشنی ڈالی، جس میں ITU Global Cybersecurity Index 2024 میں Tier-1، Role-Modelling حیثیت اور Pakistan Information Security Framework 2026 بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق نیشنل سائبر سکیورٹی آپریشنز سینٹر پاکستان کے لیے ایک محفوظ، مضبوط اور خودمختار ڈیجیٹل نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔