وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے پاکستان میں گوگل کے دفتر کے باضابطہ افتتاح کو ملک کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے قوم کو مبارکباد دی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں گوگل کی مقامی موجودگی کا قیام عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے بالخصوص نوجوانوں، ڈویلپرز اور ہنرمند افراد کے لیے عالمی ٹیکنالوجی، وسائل اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوگل کے دفتر کا افتتاح حکومت کے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" وژن اور ملک میں ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی ترقی کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

وفاقی وزیر نے اس اقدام میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی مشترکہ کاوشوں کو بھی سراہا۔

انہوں نے گوگل کے ساتھ جاری شراکت داری کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 350,000 سے زائد کیریئر سرٹیفکیٹ اسکالرشپس فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ گوگل ڈیولپر گروپس کے ذریعے 300,000 ڈویلپرز تک رسائی حاصل کی گئی ہے۔ ان میں سے 50,000 افراد کو جنریٹو اے آئی اور کلاؤڈ ٹیکنالوجیز میں تربیت دی گئی ہے۔

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق گوگل کے تعاون سے 120 سے زائد مقامی گیمنگ اور ایپ اسٹوڈیوز کی معاونت بھی کی گئی ہے، جبکہ "AI سیکھو 2026" پروگرام میں 17,000 سے زائد رجسٹریشنز ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 500,000 ڈیوائسز کی گنجائش رکھنے والی مقامی کروم بک اسمبلی لائن بھی قائم کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ڈیجیٹل لٹریسی کے فروغ کے لیے 300,000 سے زائد طلبہ اور 5,000 اساتذہ کو بھی تربیت فراہم کی جا چکی ہے، جس کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ جولائی مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدی زرِ مبادلہ میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 417 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جولائی مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری نے 344 ملین امریکی ڈالر کا تجارتی سرپلس ریکارڈ کیا، جو مجموعی آئی سی ٹی برآمدی زرِ مبادلہ کا تقریباً 83 فیصد بنتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں آئی ٹی شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق حکومت آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس شعبے کی ترقی کے لیے سازگار اور مسابقتی پالیسی ماحول فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات پر رعایتی ٹیکس شرح 0.25 فیصد تک ہے، جو اس شعبے کی مسلسل ترقی کے لیے حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔

وفاقی وزیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" وژن کے تحت نجی شعبے اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی اور پاکستان میں اعلیٰ اثر رکھنے والے ڈیجیٹل اقدامات کو فروغ دیا جائے گا۔