پنجاب حکومت نے دودھ میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے دودھ سپلائی کرنے والی گاڑیوں پر ڈیجیٹل ٹریکرز نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاکہ دودھ کی ترسیل کے پورے نظام کی مؤثر نگرانی کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے فوڈ سیفٹی و کنزیومر پروٹیکشن سلمیٰ بٹ کے مطابق اس منصوبے کا پائلٹ مرحلہ آئندہ چند روز میں لاہور میں شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں روزانہ تقریباً 550 سے 600 دودھ بردار گاڑیاں داخل ہوتی ہیں، جن کی رجسٹریشن، مالکان کی تفصیلات، نقل و حرکت اور دودھ کے ماخذ کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دودھ کی سپلائی چین کی ابتدا سے اختتام تک نگرانی ممکن ہوگی اور ملاوٹ شدہ دودھ کو مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکے گا۔

سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی پہلے ہی جدید لیکٹو اسکینرز اور موبائل لیبارٹریز کے ذریعے موقع پر دودھ کے مختلف ٹیسٹ کرتی ہے، جن میں بعض اقسام کی ملاوٹ صرف ایک منٹ میں پکڑی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دودھ میں ملاوٹ ایک سنگین جرم ہے، کیونکہ یہ خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے لاکھوں لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ تلف کر چکی ہے اور متعدد غیر قانونی یونٹس کے خلاف کارروائی بھی کی جا چکی ہے۔