وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ترمیم شدہ پولیس ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا، جبکہ وفاق کے پاس اس معاملے پر کئی قانونی اور آئینی آپشنز موجود ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وفاق کو خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر تحفظات ہیں اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو مخصوص اختیارات حاصل ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ قانون میں پولیس کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں اور آئی جی کے اختیارات میں تبدیلی سے پولیس کا کمانڈ اسٹرکچر متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق مجوزہ قانون میں سیاسی عمل دخل کے خدشات بھی موجود ہیں۔

طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر ڈی ایس پی سمیت پولیس افسران کی تعیناتی میں سیاسی اختیار بڑھایا جائے تو پولیس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ کیسے برقرار رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا بنیادی کام امن و امان برقرار رکھنا ہے اور اداروں کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد آنے کے لیے 125 راستے کھلے ہیں اور حکومت اپنے اقدامات کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنی پالیسی کے تحت کرتی ہے۔

دوسری جانب دستیاب رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026 کے نظرثانی شدہ مسودے کی منظوری دی ہے، تاہم اس کی حتمی قانونی حیثیت قانون سازی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی۔ مجوزہ قانون میں پولیس کی پالیسی اور آپریشنل معاملات، اعلیٰ افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سمیت مختلف امور میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔