میر رضا ہلاکت کیس کی تحقیقات میں پولیس کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے، تفتیشی ٹیم نے متوفی کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم حاصل کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق ضروری بائیو میٹرک اور دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سم میر رضا کی والدہ کے نام پر منتقل کرکے جاری کی گئی۔ تفتیشی حکام کا مقصد اس سم کے ذریعے میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کا بیک اپ ڈیٹا حاصل کرنا ہے تاکہ ان کے رابطوں اور آخری پیغامات سے متعلق مزید شواہد سامنے آسکیں۔

پولیس کو میر رضا کی جانب سے قریبی دوستوں کو بھیجے گئے بعض واٹس ایپ پیغامات بھی ملے ہیں، جن میں انہوں نے اپنے معاشی اور گھریلو حالات کا ذکر کیا تھا۔ قریبی مسجد کے پیش امام، مؤذن، کمیٹی ارکان اور جائے وقوع کے قریب موجود سیکیورٹی گارڈ کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔

تفتیشی ٹیم نے میر رضا کی موت سے قبل کے آخری 12 گھنٹوں کی ٹائم لائن بھی تیار کی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ آخری وقت تک سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کے لیے مختلف افراد سے رابطے میں تھے۔

میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے ملی تھی۔ بعد ازاں دوسرے پوسٹ مارٹم میں جسم پر چوٹوں اور تشدد کے نشانات سامنے آنے کے بعد کیس کی تحقیقات کا رخ تبدیل ہوا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق مبینہ قتل کے حوالے سے مزید شواہد اور واقعے میں استعمال ہونے والا اسلحہ تاحال برآمد نہیں ہوسکا، جبکہ شواہد ضائع ہونے اور ممکنہ طور پر ملوث افراد کا تعین بھی تفتیشی ٹیم کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔