یمن کی ایران نواز حوثی تحریک (انصار اللہ) بحیرۂ احمر کی اہم آبی گزرگاہ باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عملدرآمد ہوتا ہے تو اس کے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اس منصوبے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا ٹائم لائن طے نہیں کی، تاہم اس پر ایرانی حکام کے ساتھ مشاورت کی جا چکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے دو بنیادی مقاصد عالمی بحری راستوں پر فیس وصول کرنے کے تصور کو معمول بنانا اور امریکا سمیت مغربی ممالک پر سیاسی و اقتصادی دباؤ بڑھانا ہیں۔

رائٹرز کے مطابق مجوزہ منصوبے میں چین کے تجارتی جہازوں کو فیس سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ چین پہلے ہی بحیرۂ احمر میں اپنے آئل ٹینکرز کے محفوظ گزرنے کے لیے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کر چکا ہے۔ چونکہ چین سعودی عرب سے خام تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اس لیے اس پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حال ہی میں تہران کا دورہ کرنے والے حوثی وفد نے ایرانی حکام سے باب المندب میں ممکنہ فیس وصولی کے انتظامی ڈھانچے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ایک عرب عہدیدار کے مطابق ایرانی مشیر اس حوالے سے ممکنہ اتھارٹی کے قیام کے لیے رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر حوثیوں کو موقع ملا تو وہ بحیرۂ احمر میں اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے تجارتی جہازوں سے باقاعدہ فیس وصول کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ مغربی سفارت کاروں کے مطابق اس اقدام کی خلیجی اور یورپی ممالک سخت مخالفت کر سکتے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں بین الاقوامی بحری افواج تمام تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر باب المندب کے راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کی افادیت بھی کم ہو جائے گی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور ترسیل کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔