وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان کی نئی قائم کی گئی قومی اسٹریٹجک کمانڈ (National Strategic Command) کا پہلا کمانڈر مقرر کر دیا ہے۔ ان کی تقرری پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
جنرل سید عامر رضا کون ہیں؟
جنرل سید عامر رضا کا شمار پاک فوج کے تجربہ کار اور پیشہ ور افسران میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 1988 میں پاک فوج کی مشہور بکتر بند رجمنٹ 6 لانسرز (Watson's Horse) میں کمیشن حاصل کیا۔
وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں، جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات (International Relations) میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے Arts and Science of Warfare اور Defence & Strategic Studies میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
عسکری کیریئر
جنرل عامر رضا نے اپنے فوجی کیریئر کے دوران متعدد اہم کمانڈ، اسٹاف اور تدریسی ذمہ داریاں نبھائیں۔
انہوں نے 2007 سے 2009 تک 6 لانسرز رجمنٹ کی کمان کی، بعد ازاں ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ اور ایک انفنٹری ڈویژن کی قیادت بھی کی۔
بطور اسٹاف افسر وہ بریگیڈ میجر، جی ایس او-2، چیف آف اسٹاف اسٹرائیک کور، ڈائریکٹر جنرل ویپنز اینڈ ایکوئپمنٹ سمیت اہم عہدوں پر تعینات رہے۔
تدریسی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ وہ اسکول آف آرمر اینڈ میکانائزڈ وارفیئر میں انسٹرکٹر، فیکلٹی آف ریسرچ اینڈ ڈاکٹرائنل اسٹڈیز (FORADS) کے ڈائریکٹر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں چیف انسٹرکٹر بھی رہے۔
اہم ذمہ داریاں
اپریل 2020 میں جنرل عامر رضا کو ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کا چیئرمین مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے دفاعی صنعت سے متعلق اہم منصوبوں کی نگرانی کی۔
اکتوبر 2022 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جبکہ مئی 2023 میں وہ لاہور کور (IV Corps) کے کور کمانڈر مقرر ہوئے۔ جنوری 2025 میں انہیں پاک فوج کا چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) بنایا گیا، جو فوج کے اہم ترین اسٹاف عہدوں میں شمار ہوتا ہے۔
نئی ذمہ داری
24 جولائی 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے قومی اسٹریٹجک کمانڈ کا پہلا کمانڈر مقرر کر دیا۔
یہ نیا عہدہ پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اسی قانون کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا، جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا عہدہ ختم کر دیا گیا۔






