سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں ایم ڈی کیٹ 2026 کے انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں سیکریٹری صحت کی عدم موجودگی پر کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر انوشہ رحمان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران انوشہ رحمان نے ہدایت کی کہ سیکریٹری صحت کو فوری طور پر آن لائن اجلاس میں شامل کیا جائے، کیونکہ وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے رکن بھی ہیں اور ان کی موجودگی اہم ہے۔
ایم ڈی کیٹ کے امتحانی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انوشہ رحمان نے کہا کہ موجودہ ایف ایس سی کا تعلیمی نظام زیادہ تر رٹہ پر مبنی ہے، جبکہ ایم ڈی کیٹ میں طلبہ سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھے جاتے ہیں، جس کے باعث امیدواروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے صورتحال کو ایک مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا، "اگر بریانی سکھا کر پلاؤ کا ٹیسٹ لیا جائے تو بریانی ہی نکلے گی۔" ان کا کہنا تھا کہ جب تدریسی نظام اور امتحانی طریقہ کار میں ہم آہنگی نہیں ہوگی تو طلبہ پر غیر ضروری دباؤ بڑھے گا۔
اجلاس میں ای بی سی سی (IBCC) کی جانب سے میڈیکل کالجوں میں سالانہ 3,700 داخلوں سے متعلق پیش کیے گئے اعداد و شمار پر بھی چیئرپرسن نے اعتراض کیا اور کہا کہ وہ اس ڈیٹا کو درست نہیں سمجھتیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحانی نظام، داخلہ پالیسی اور اعداد و شمار کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو منصفانہ اور یکساں مواقع میسر آ سکیں۔






