راولپنڈی اور اٹک میں 27 ستمبر کو متوقع سیاسی سرگرمی کے باعث موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی ممکنہ بندش کے معاملے پر وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے وضاحت کردی ہے۔ ان کے مطابق ابھی تک انٹرنیٹ سروس بند یا سست کرنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
شزہ فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے صورتحال چیک کی ہے، تاہم وزارتِ داخلہ کی جانب سے PTA کو ابھی تک ایسی کوئی حتمی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ یا موبائل سروس محدود کرنے کا فیصلہ وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر PTA کرتا ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت پہلے ہی وفاقی وزارتِ داخلہ کو راولپنڈی اور اٹک کے مخصوص علاقوں میں 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈاؤن گریڈ یا سگنلز جیمنگ کی درخواست دے چکی ہے۔ درخواست میں راولپنڈی کے بعض مقامات اور اٹک کے علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق اگر امن و امان کی صورتحال کے باعث سروس محدود کرنے کی ضرورت پیش آئی تو کوشش ہوگی کہ کارروائی محدود اور مخصوص علاقوں تک رکھی جائے، جبکہ ملک گیر انٹرنیٹ بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔






