ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دہشتگرد قرار دیا، جبکہ ایران خود دہشتگردی کا نشانہ بنا ہے۔

مسعود پزشکیان کے مطابق ایران نے صرف اپنے دفاع کے حق کا استعمال کیا اور اس کے حملوں کا ہدف شہری نہیں بلکہ امریکی اہداف تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر ہونے والے حملوں میں عالمی قوانین کو نظر انداز کیا گیا اور خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے۔

ایرانی صدر نے میناب میں اسکول پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی کارروائیوں پر تنقید کی اور کہا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔

انہوں نے فلسطین اور غزہ کی صورتحال کو بھی عالمی برادری کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی تعاون پر زور دیا۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے ایران کے بارے میں دوہرے معیار کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران پُرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق رکھتا ہے اور سیکیورٹی کے لیے مشترکہ تعاون چاہتا ہے۔ ان کے خطاب کے دوران امریکی وفد نے واک آؤٹ کیا۔